سچ کہتے ہیں سیانے باپ کے ہونے سے سب کچھ ہوتا ہے
جوانی میں انسان باپ کو شک کی نگاہ سے دیکھتا رہتا ہے جیسے باپ کو ہمارے مسائل، تکلیفوں یا ضرورتوں کا احساس ہی نہیں۔۔
یہ نئے دور کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا..
کبھی کبھی ہم اپنے باپ کا موازنہ بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں جیسا کہ۔۔
” اتنی محنت ہمارے باپ نے کی ہوتی، کچھ بچت کی ہوتی یا کچھ بنایا ہوتا تو آج ہم بھی … فلاں کی طرح عالیشان گھر میں رہ رہے ہوتے اور بڑی گاڑی میں گھوم رہے ہوتے “
کہاں ہو۔۔؟؟
کب آؤ گے..؟؟
زیادہ دیر نہ کرنا۔۔
اس جیسے سوالات انتہائی فضول اور فالتو سے لگتے ہیں۔۔
باپ کا یہ کہنا کہ سویٹر تو پہنا ہے کچھ اور بھی پہن لو سردی بہت ہے۔۔۔ انسان سوچتا ہے کہ اولڈ فیشن کی وجہ سے والد کو باہر کی دنیا کا اندازہ نہیں۔۔۔
اکثر اولادیں اپنے باپ کو ایک ہی معیار پر پرکھتی ہیں, گھر, گاڑی, پلاٹ, بینک بیلنس, کاروبار اور پھر اپنی ناکامیوں کو باپ کے کھاتے میں ڈال کر خود سُرخرو ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے پاس بھی کچھ ہوتا تو اچھے اسکول میں پڑھتے یا کاروبار کرتے ۔۔
اس میں شک نہیں اولاد کے لئے آئیڈیل بھی ان کا باپ ہی ہوتا ہے لیکن کُچھ باتیں جوانی میں سمجھ نہیں آتیں یا ہم سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے, اس ليے کہ تب ہمارے سامنے دنیا ہی سب کچھ ہوتی ہے اور اس دنیا سے مقابلے کا بُھوت سوار ہوتا ہے،
جلد سے جلد سب کچھ پانے کی جستجو میں ہم کُچھ کھو بھی رہے ہوتے ہیں جِس کا احساس ہمیں بہت دیر سے ہوتا ہے۔۔
بہت سی اولادیں وقتی محرومیوں کا پہلا ذمّہ دار اپنے باپ کو قرار دے کر ہر چیز سے بری الزمہ ہو جاتی ہیں۔۔
صاحب!! وقت تو گزر ہی جاتا ہے، اچھا بھی اور برا بھی اور اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ انسان پلک جھپکتے ماضی کی کہانیوں کو اپنے ارد گِرد منڈلاتے دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔۔۔۔
جوانی، پڑھائی، نوکری، شادی، اولاد اور پھر وہی اسٹیج، وہی کردار جو نِبھاتے ہوئے ہر لمحہ اپنے باپ کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آ کر، باپ کی ہر سوچ، احساس، فِکر، پریشانی، شرمندگی اور اذیّت کو ہم پر کھول کے رکھ دیتا ہے۔۔۔۔
باپ کی کبھی کبھی بلا وجہ خاموشی، کبھی پرانے دوستوں میں بیٹھ کر بے وجہ قہقہے لگانا، کبھی اچھے کپڑوں کو ناپسند کرکے پُرانے کپڑوں کو فخر سے پہننا، کھانوں میں اپنی سادگی پر فخر کرنا یا کبھی کبھی سر جُھکائے اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں میں مگن ہونے کی وجہ۔۔۔
کبھی بغیر وجہ تھکاوٹ کے بہانے سرِ شام بتّی بجھا کر لیٹ جانا یا پھر نظریں جھکائے انتہائی محویت سے ڈوب کر قران کی تلاوت کرنا۔۔۔۔
یہ سب ہمیں سمجھ تو آنا شروع ہو جاتا ہے لیکن بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے ۔۔۔
جب ہم خود راتوں کو جاگ جاگ کر دوسرے شہروں میں گئے بچوں پر آیت الکرسی کے دائرے پھونکتے ہیں۔۔۔
جب ہم سردی میں وضو کرتے ہوئے اچانک سوچتے ہیں کہ بیٹے سے پًوچھ ہی لیں کہ بیٹا آپ کے ہاں گرم پانی آتا ہے ؟
جب قہر کی گرمی میں رُوم کولر کی خنک ہوا بدن کو چُھوتی ہے تو پہلا احساس جو دل و دماغ میں ہلچل سی مچاتا ہے وہ یہ کہ
” کہیں اولاد گرمی میں تو نہیں بیٹھی”
جوان اولاد کے مستقبل، شادیوں کی فکر، ہزار تانے بانے جوڑتا باپ تھک ہار کر اللّه اور اس کے پاک کلام میں پناہ ڈھونڈتا ہے تب یاد آتا ہے کہ ہمارا باپ بھی ایک ایک حرف، ایک ایک آیت پر رُک رْک کر بچوں کی سلامتی، خوشی، بہتر مستقبل کی دعائیں ہی کرتا ہوگا۔۔۔
ہر نماز کے بعد اُٹھے کپکپاتے ہاتھ اپنی دعاؤں کو بھول جاتے ہونگے ہماری طرح ہمارا باپ بھی ایک ایک بچے کو نمناک آنکھوں سے اللّه کی پناہ میں دیتا ہوگا۔۔۔۔۔
سرِ شام کبھی کبھی کمرے کی بتّی بُجھا کر اس فکر کی آگ میں جلتا ہوگا کہ میں نے اپنی اولاد کے لئے بہت کم کِیا ۔۔۔
اولاد کو باپ بہت دیر سے یاد آتا ہے اتنی دیر سے کہ ہم اسے چْھونے، محسوس کرنے، اسکی ہر تلخی، اذیت اور فِکر کا ازالہ کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔۔۔
یہ ایک عجیب احساس ہے جو کچھ وقت کے بعد اپنی اصل شکل میں ہمیں بےچین ضرور کرتا ہے، لیکن یہ حقیقتیں جن پر بروقت عیاں ہو جائیں وہی خوش قسمت اولادیں ہوتی ہیں۔۔۔
اولاد ہوتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ باپ کا چھونا، پیار کرنا، دل سے لگانا، یہ تو بچپن کی باتیں ہیں مگر جب خود باپ بنتے ہیں تو یقین کریں آنکھیں بھیگ جاتی ہیں کہ پتہ نہیں باپ نے کتنی دفعہ دل ہی دل میں ہمیں چھاتی سے لگانے کو بازو کھولے ہونگے ؟
پیار کے لئے اس کے ہونٹ تڑپے ہونگے۔۔۔
اور ہماری بے باک جوانیوں نے اسے یہ موقع نہیں دیا ہوگا۔۔۔
ہم جیسے درمیانے طبقے کے سفید پوش لوگوں کی ہر خوائش، ہر دعا، ہر تمنا، اولاد سے شروع ہو کر اولاد پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔۔۔
لیکن کم ہی باپ ہونگے جو یہ احساس اپنی اولاد کو اپنی زندگی میں دلا سکے ہوں۔۔۔
یہ ایک چُھپا ہوا میٹھا میٹھا سا درد ہے جو باپ اپنے ساتھ ہی لے جاتا ہے۔۔۔
اولاد کے ليے بہت کچھ کر کے بھی کچھ نہ کرسکنے کی ایک خلش آخری وقت تک ایک باپ کو بے چین رکھتی ہے، اور یہ سب بہت شدت سے محسوس ہوتا ہے۔۔۔
جب ہم باپ بنتے ہیں، بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو باپ کے دل کا حال جیسے قدرت ہمارے دلوں میں منتقل کر دیتی ہے۔۔۔
اولاد اگر باپ کے دل میں اپنے لئے محبت کو کھلی آنکھوں سے وقت پر دیکھ لے تو شاید اسے یقین ہو جائے کہ دنیا میں باپ سے زیادہ اولاد کا کوئی دوست نہیں ہوتا۔۔۔۔